ممبئی،28؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) 12؍ نومبر 2021 کو مالیگائوں بند کے دوران پھوٹ پڑنے والے تشدد میں گرفتار ملزمین کی ضمانت پر رہائی کے لیئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر(ارشد مدنی) ممبئی ہائی کورٹ سے رجوع کر ے گی۔ اس ضمن میں آج جمعیۃ علماء مالیگائوں کے ایک نمائندہ وفد جس میں حاجی محمد مکی صاحب ( نائب صدر جمعیۃ علماء مالیگائوں )ایڈوکیٹ نیازاحمد لودھی صاحب ( نائب صدر جمعیۃ علماء مالیگائوں ) عبد المالک بکرا صاحب ( جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء مالیگائوں )عبد الرحمن پیارے صاحب ( آفس سکریٹری جمعیۃ علماء مالیگائوں ) حافظ فیصل صاحب حفظ الرحمن صاحب ودیگرشامل ہیں نے ممبئی میں جمعیۃ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی اور قانونی مشیر ایڈوکیٹ شاہد ندیم سے ملاقات کی۔
وفد نے گلزار اعظمی کو بتایا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی اہانت کی مذمت میں دیگر شہروں کی طرح مالیگائوں میں بھی بند کا انعقادکیا گیا تھا لیکن اس دوران تشدد پھوٹ پڑا ور احتجاج کرنے والوں اور پولس کے درمیان مبینہ واردات کے بعد پولس نے 55 افراد کو گرفتار کرلیا جبکہ 15 سو سے زائد افراد کو مفرور قرارد یا ہے ۔ پولس نے ملزمین پر تعزیرات ہند کی دفعات 307,353,332,143,144,147,148,149,120-B, 186اور مہاراشٹر پولس ایکٹ و پولس ایکٹ 1922 کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے۔
وفد نے گلزار اعظمی کومزید بتایا کہ نچلی عدالت میں مقامی وکلاء نے ملزمین کی ضمانت پر رہائی کی درخواست داخل کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا ، ضمانت عرضداشت مسترد کیئے جانے کے بعد سے 55 ملزمین کے اہل خانہ شدید پریشانی اور مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ پولس ابھی چارج شیٹ داخل کرنے کے حق میں نہیں ہے لہذا ملزمین کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء سے رجوع کیا اور قانونی امداد طلب کی ۔
گلزار اعظمی نے وفد کو یقین دلایا کہ ملزمین کی ممبئی ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی کے لیئے کوشش کی جائے گی اور اگلے چند ایام میں ان تمام ملزمین کی ضمانت عرضداشت ہائی کورٹ میں داخل کردی جائے گی جنہوں نے وکالت ناموں پر دستخط کرکے دیئے ہیں۔گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزمین کی ضمانت پر رہائی کے بعد پولس کی جانبدارانہ کارروائی کے خلاف عدالت عظمی سے رجوع کیا جائے گا کیونکہ پولس نے مبینہ جعلی میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر ملزمین پر 307 یعنی کے اقدام قتل کی دفعہ کا اطلاق کیا ہے جس کی وجہ سے انہیں نچلی عدالت سے ضمانت نہیں ملی۔